ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی کابینہ نے خودکفیل ہندوستان روزگار منصوبہ اور 1 کروڑ ڈیٹا مراکز کے قیام کی منظوری دی

مودی کابینہ نے خودکفیل ہندوستان روزگار منصوبہ اور 1 کروڑ ڈیٹا مراکز کے قیام کی منظوری دی

Wed, 09 Dec 2020 22:25:45    S.O. News Service

نئی دہلی، 9 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) مودی کابینہ نے آج خود کفیل ہندوستان روزگار اسکیم کو منظوری دے دی۔ مرکزی وزیر محنت وزیر سنتوش گنگوار نے کابینہ اجلاس کے بعد یہ اطلاع دی۔

انہوں نے کہاکہ نئے ملازمین کے ریٹائرمنٹ فنڈ میں ملازمین اور آجروں کی دو سال کی شراکت کے لئے حکومت 22810 کروڑ روپے دے گی۔خود کفیل ہندوستان روزگار یوجنا یکم اکتوبر 2020 کو قابل اطلاق سمجھا جائے گا۔ اس کے لئے حکومت 22810 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرے گی۔ موجودہ مالی سال میں اس پر 1584 کروڑ روپئے خرچ ہوں گے۔ اس اسکیم سے 58.5 لاکھ ملازمین مستفید ہوں گے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کی مدت کے دوران قریب 58.5 لاکھ ملازمین کے فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس اسکیم کے تحت مرکزی حکومت یکم اکتوبر 2020 کو یا اس کے بعد اور 30 جون 2021 تک شامل تمام نئے ملازمین کو دو سال کی مدت کے لئے سبسڈی فراہم کرے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسی کمپنی میں جس میں 1000 ملازمین ہیں، مرکزی حکومت ملازم کی شراکت کا 12 فیصد اور آجر کی شراکت کا 12 فیصد (دونوں) ای پی ایف کو دو سال کی مدت کے لئے 24 فیصد تنخواہ الاؤنس کیلئے دے گی۔اس کے مطابق مرکزی حکومت ای پی ایف میں ملازمت فراہم کرنے والی تنظیموں میں جن کے پاس 1000 سے زائد ملازمین ہیں، میں نئے ملازمین کے سلسلے میں دو سال کی مدت کے لئے صرف 12 فیصد ملازمین کا تعاون کریں گے۔ایک ملازم جس کی ماہانہ تنخواہ 15000 روپے سے کم ہے اور وہ کسی ایسے ادارے میں کام نہیں کررہا تھا جو یکم اکتوبر 2020 سے پہلے ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے ساتھ رجسٹرڈ تھا اور اس مدت سے پہلے یونیورسل اکاؤنٹ نمبر یا ای پی ایف ممبر ہے اگر اکاؤنٹ نمبر نہیں تھا تو وہ اس اسکیم کا اہل ہوگا۔

ای پی ایف کا کوئی بھی ممبر جس کا یونیورسل اکاؤنٹ نمبر ہے اور اس کی ماہانہ تنخواہ 15000 روپے سے بھی کم ہے اور اگر وہ رواں سال مارچ اور ستمبر کے درمیان کووڈ کی وبا کے دوران ملازمت چھوڑ دیتا ہے اور ای پی ایف کے دائرہ کار میں کسی ملازمت کا اہل نہیں ہے۔ اگر آجر کو ستمبر تک انسٹی ٹیوٹ میں ملازمت نہیں ملتی ہے، تو وہ بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا اہل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ای پی ایف او ممبروں کے آدھار نمبر سے منسلک اکاؤنٹ میں الیکٹرانک طور پر اس شراکت کی ادائیگی کرے گا۔ اس اسکیم کے لئے ای پی ایف او سافٹ ویئر تیار کرے گا اور شفاف اور جوابدہ عمل بھی اپنایا جائے گا۔کابینہ نے ایک کروڑ ڈیٹا سینٹرز کے قیام کو بھی منظوری دے دی ہے۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ کابینہ نے ’پردھان منتری وانی‘ اسکیم کے ذریعے عوامی وائی فائی نیٹ ورک کے فریم ورک کو منظوری دی ہے۔


Share: